کاروار:3؍ جولائی (ایس اؤ نیوز) جل جیون مشن، نریگا، رہائشی ، صحت سمیت مختلف منصوبہ جات کے نفاذ کے لئے دی جانے والی خصوصی امداد کے استعمال پر مرکزی حکومت کڑی نگاہ رکھی ہوئی ہے متعلقہ افسران بہت ہی احتیاط اور چوکنا رہتے ہوئے کام کریں۔ ان خیالات کا اظہار اترکینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے کیا۔
وہ یہاں سنیچر کو کاروار ضلع پنچایت ہال میں منعقدہ ضلعی سطح کی ترقی جاتی میٹنگ(دیشا) کی صدارت کرتےہوئے بات کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کئی ایک منصوبہ جات کو جاری کیا ہے۔ ایسے منصوبوں کانتیجہ خیز نفاذ ہونا چاہئے اور اہل مستحقین تک منصوبوں کا فائدہ پہنچنا چاہئے، اسی غرض سے حکومت کی جانب سے کروڑوں روپیہ کی خصوصی امداد دی جارہی ہے۔
جل جیون مشن کے تحت ضلع بھر میں جاری کاموں پر بات کرتےہوئے کاروار رکن اسمبلی روپالی نےکہاکہ منصوبے کے تحت جتنے بھی کاموں کو انجام دیا جارہاہے اس تعلق سے ارکان اسمبلی سمیت کسی بھی عوامی نمائندے کے پاس کوئی جانکاری نہیں ہے۔ عوامی نمائندوں کو جانکاری دئیےبغیر افسران منصوبے کے نفاذ کی کوشش میں ہیں، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ افسران کے اس طرح کے رویہ سے آئندہ دنوں میں منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔

رکن پارلیمان نے رکن اسمبلی کی تشویش پر کہاکہ رکن اسمبلی جو بھی کہہ رہےہیں وہ سچ ہے، گھر گھر پانی پہنچانا ہے، عوام کی پیاس بجھانی ہے۔ ایسے اہم منصوبے کا نفاذ عوامی نمائندوں اور عوام کے اشتراک سے نافذ ہونا چاہئے۔ تب کہیں عوام کو نہ صرف منصوبے کا پتہ چلتاہے بلکہ اس کی تشہیر بھی ہوتی ہے۔ ملک میں جمہوری نظام ہے، سرکاری افسران عوامی نمائندوں کو جانکاری دئیے بغیر راست اپنا اختیار استعمال نہیں کرنا چاہئے، افسران کو چاہئے کہ ذمہ داری سے اپنا کام کریں، ایسے واقعات دوبارہ وقوع پذیر نہ ہوں اس کا خیال رکھیں ہیگدے نے متنبہ کیا کہ آئندہ اس طرح کی شکایت آنے پر متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
رکن پارلیمان نے کہاکہ عوامی منصوبہ جات کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے دئیے جانے والے خصوصی فنڈ کا استعمال کہاں کہاں اور کس طرح کیا جارہاہے اس تعلق سے کڑی نگاہ رکھی گئی ہے، اگر فنڈ کے استعمال میں کہیں بھی گھپلہ ہوتاہے تو اس کی ٹھیک ٹھیک جانچ کرتےہوئے متعلقہ افسر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور آئندہ جب وہ ریٹائرڈ ہونگے تو انہیں اُن کی پنشن بھی نہیں ملے گی اس سلسلے میں افسران کے لئے ضروری ہے کہ وہ بہت ہی احتیاط سے کا م کرے۔
آننت کمار ہیگدے نے کہا کہ اس سے قبل منعقدہ میٹنگ میں محکمہ باغبانی سے کہا گیا تھا کہ ضلع میں شہدکی کاشت کے لئے بھی بہتر مواقع میسر ہیں۔ جن درختوں پر زیادہ شہد کے چھتے بنائے جاتےہیں ویسے درختوں کی فہرست بناکر سونپیں۔ اس کے مطابق محکمہ کی جانب سے شہد کے لئے موافق 10نسلوں کے درختوں کی فہرست تیارکی گئی ہے ، آئندہ دنوں میں ایسے درختوں کو فاریسٹ کی زمینات پر زیادہ سے زیادہ کاشت کئے جانے کاکام ہونا چاہئے۔ اس سے ماحول میں بھی ترقی ہوتی ہے اور کسانوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ہیگدے نے کہا کہ سال 2023-2024تک ضلع میں ہوائی جہازاور سمندری جہاز کےاڈے سمیت مختلف صنعتوں کے قدم پڑیں گے۔ اس لئے ضلع میں اسکل ڈیولپمنٹ کو ترجیح دینا ہے،مقامی قابل و باصلاحیت افراد کو ٹیکنالوجی کے متعلق ان کی اسکل کو بڑھانے کےلئے تربیت دینے کی ضرورت ہے، انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایسا کرنےکے نتیجےمیں ضلع کے بے روزگاروں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
رکن پارلیمان نے زرعی ، صحت، تعلیم ،ترقی برائے خواتین اور اطفال ، سوچھ بھارت ابھیان ، نریگا، پینےکے پانی ، اکشر داسوھاسمیت مختلف 21سے زائد محکمہ جات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی والے دن کے متعلق دیہی پینے کے پانی اور پاکیزگی محکمہ کی جانب سے شائع کئے گئے سوچھ سنکیرن پمفلٹ کا، کرناٹکا گرامین محکمہ کے ہیلپ لائن نمبر کا ، عالمی یوم آبادی کی مناسبت سے ’تم سےممکن ہے آبادی کا توازن ‘نامی پمفلٹ کا اجراء کیا۔
میٹنگ میں ارکان اسمبلی دینکر شٹی ، روپالی نائک، سنیل نائک، رکن پریشد شانتارام سدی ، ڈپٹی کمشنر ملئی مہیلن ، ضلع پنچایت سی ای اؤ پریانگاایم، ایس پی شیوپرکاش دیوراج سمیت مختلف محکمہ جات کے ضلع اور تعلقہ جات افسران موجود تھے۔